نئی دہلی، 26/مارچ(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)وزیر اعظم نریندر مودی نے آئندہ صدارتی انتخابات میں حکمت عملی بنانے کے لیے شیوسینا سربراہ ادھو ٹھاکرے کو اگلے ہفتے این ڈی اے کی اتحادی جماعتوں کے لیے منعقد عشائیہ میں مدعو کیا ہے۔وزیر اعظم مودی اتحادیوں سے مل کر خود صدارتی انتخابات کے لیے کسی نام پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔صدارتی انتخابات جولائی میں ہونے کاامکان ہے۔بی جے پی کے ایک مرکزی لیڈر نے صدر کے عہدے کے لیے کچھ سینئر بی جے پی لیڈران کے نام کی تجویز پیش کی ہے، جن میں سے لال کرشن اڈوانی، لوک سبھا اسپیکر سمترا مہاجن، وزیر خارجہ سشما سوراج اور جھارکھنڈ کی گورنر دروپدی مرمو اہم امیدواروں میں شامل ہیں،تاہم بی جے پی کو لوک سبھا میں اکثریت حاصل ہے اور وہ کئی ریاستوں میں اقتدار میں ہے، لیکن وہ ساتھی جماعتوں کو شکایت کا کوئی موقع نہیں دینا چاہتی ہے، اسی لیے مودی جی نے عشائیہ کا اہتمام کیا ہے۔وہیں اس مسئلے پر شیوسینا کا کہنا ہے کہ مودی نے گڑی پڑوا کے بعد میٹنگ طلب کی ہے اور زیادہ امکان ہے کہ یہ 29/مارچ کو ہوگی۔اس میٹنگ میں ادھو ٹھاکرے موجود رہیں گے۔غورطلب ہے کہ صدر پرنب مکھرجی نے 25/جولائی 2012کو عہدہ سنبھالا تھا، اگلا صدرکا انتخاب 25/جولائی سے پہلے ہو جانا چاہیے۔ لوک سبھا، راجیہ سبھا اور مختلف ریاستوں کی اسمبلیوں کے تمام اراکین صدارتی انتخابات میں ووٹ دیں گے۔